1 جون، 2018، 3:39 PM

لِتھوانیہ اور رومانیہ پر امریکی سی آئی اے کے ساتھ تعاون کرنے کے جرم میں جرمانہ عائد

لِتھوانیہ اور رومانیہ پر امریکی سی آئی اے کے ساتھ تعاون کرنے کے جرم میں جرمانہ عائد

انسانی حقوق کی یورپی عدالت کے ایک فیصلے میں لِتھوانیہ اور رومانیہ کو امریکی خفیہ ایجنسی (سی آئی اے) کے متنازع پروگرام میں شریک مجرم قرار دے کر جرمانہ عائد کردیا گیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ انسانی حقوق کی یورپی عدالت کے ایک فیصلے میں لِتھوانیہ اور رومانیہ کو امریکی خفیہ ایجنسی (سی آئی اے) کے متنازع پروگرام میں شریک مجرم قرار دے کر جرمانہ عائد کردیا گیا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے 11 ستمبر 2001 کے حملے کے بعد مشتبہ دہشت گردوں کو اپنی سرزمین پر قائم خفیہ حراستی مراکز میں قید رکھا۔

اطلاعات کے مطابق امریکی جیل گوانتانامو بے میں قید 2 مشتبہ دہشت گردوں نے 2011 اور 2012 میں عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا کہ انہیں مبینہ طور پر 2004 سے 2006 تک رومانیہ اور لتھوانیہ میں قائم سی آئی اے کے خفیہ عقوبت خانوں میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اس حوالے سے عدالت نے بتایا کہ رومانیہ کے حکام کی جانب سے ملزم کو اپریل 2004 سے نومبر 2005 کے دوران سی آئی اے کے حوالے کیا گیا جبکہ انہیں معلوم تھا کہ سعودی شہری عبدالرحیم النشیری پر تشدد کیا جاسکتا ہے اور انہیں سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عبدالرحیم النشیری پر بحری دہشت گردی حملوں کی سازش کرنے اور سال 2000 میں یمن میں موجود امریکی بحری بیڑے پر بم سے حملہ کرنے کا الزام تھا جس میں 17 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس بارے میں عدالت نے مزید بتایا کہ سابق سوویت ریاست لِتھوانیہ نے فروری 2005 سے مارچ 2006 تک اپنی سرزمین پر خفیہ جیل بنائے رکھی، جہاں امریکہ نے القاعدہ کے سرگرم رکن ابو زبیدہ کو قید رکھا۔

سال 2014 کی امریکی سینیٹ کی رپورٹ کے مطابق ابو زبیدہ اور عبدالرحیم النشیری، دونوں ہی انتہائی خطرناک قرار دیئے جانے والے قیدی تھے، جن پر قید کے دوران تفتیش کے سب سے مہلک طریقہ کار آزمائے گئے، جس میں واٹر بورڈنگ بھی شامل ہے۔

اس حوالے سے یورپی کمیشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ دونوں مشتبہ افراد رومانیہ اور لتھوانیہ کی ریاستی عملدآری میں تھے، اس وجہ سے دونوں ریاستیں یورپی کنوینشن برائے انسانی حقوق کے تحت ان کو حاصل حقوق کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئیں۔

خیال  رہے کہ یورپی کنوینشن برائے انسانی حقوق واضح طور پر تشدد اور سزائے موت کی مخالفت کرتا ہے۔

اس ضمن میں عدالت نے لتھوانیہ اور رومانیہ کو مذکورہ دونوں درخواست گزاروں کو ایک، ایک لاکھ یورو جرمانے کی ادائیگی کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔

News ID 1881119

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha